بات تو سچ ہے مگر ہے رسوائی کی

بات تو سچ ہے،مگر ہے رسوائی کی

آسٹریلیا ۔۔خوبصورتی سے بھرپور ملک۔۔

جہاں اکثروبیشتر آگ لگتی رہتی ہے۔۔۔یہ اللّٰہ تعالیٰ کی قُدرت کا نظام ہے۔

مگر اس بار لگنے والی آگ بقابو ہو گئی اور بہت قیمتی جانیں ضائع ہوئیں

جن میں بیزبان جانور،پرندے بھی شامل ہیں۔۔۔

شاید
24 افراد(مرد،عورتیں،بچے،بوڑھے)

500 M جانور

800 سے زائد Koalas
اردو میں: خرسک
(آسٹریلیا میں پایا جانے والا ایک ریچھ نما جانور)

1400 سے زیادہ گھر جل گئے

یہ سب معلومات جو کے ہر اک بندے کو معلوم ہیں۔۔کیوں؟

کیوں کے آسٹریلیا جیسے ملک میں ایسا ہوا۔۔ہر کوئی دلچسپی لے رہا

جن میں بچے،بوڑھے،جوان،مرد اورعورتیں سب شامل ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور واقعی یہ افسوس کی بات ہے،بہت نقصان ہوا۔۔۔

مگر مجھے افسوس دو باتوں کا ہوا،مجھے ہی نہیں بلکہ سبکو

ایک تو آسٹریلیا میں ہونے والے نقصان کا جو کے شاید سبكو ہوا۔۔

اور اک اس بات کا جو کے کُچھ لوگوں کو ہوا

کہ اک ملک ۷۲ سال سے بے گناہ مارا جا رہا۔۔

نا کوئی انصاف دلانے والا ،نا کوئی پوچھنے والا ، نا کوئی مدد کرنے والا

مگر ہاں باتیں کرنے والے اور باتوں سے اپنے سمیت دوسروں کے دل بہلانے والے

بہت ۔۔۔۔
اب یہاں سوال یہ ہے کہ کشمیر جنت نظیر جو کہ اللّہ تعالیٰ نے ہمیں جنت کی

صورت میں دیا۔۔

جہاں بے شمار وادیاں،باغات ہیں، بے شمار قدرت کے نظارے جو کے دیکھنے والے

کو ایک اسی کیفیت میں مگن کر دیتا جیسے اسے يوں لگے کے وہ واقعی جنت کی سیر کر رہا ہو۔۔

اُس حسین، خوبصورتی سے بھرپور ملک کی خاطر کسی نے کُچھ کیا؟؟

ہمارے لوگوں،ہمارے حکمرانوں نے؟؟؟

شاید لوگوں کو یہ بھی نہ پتا ہو کے کتنے دنوں سے وہ مظلوم اپنے گھروں میں

بے یارومددگار قید ہیں۔۔اُن پے تشدد کیا جا رہا ہے۔۔

جہاں معصوم بچوں کی جانیں لی جا رہی ہوں۔۔

اُن معصوم بچوں کی آنکھیں جنہیں کھلنے سے پہلے ختم کردیا گیا،اُن معصوموں کو مارا جا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔

میرا دماغ اب مزید یہ حالات بتانے کی کیفیت میں نہیں ۔۔

کیوں کے وہ منظر جب آنکھوں کے سامنے آتے۔۔۔(۔۔۔)

جب وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے آتے ہیں ،میرا دل خون کے آنسو بہانہ شروع کردیتا ہے۔۔۔

شاید کچھ زیادہ لکھ دیا ہو۔۔

اور آپ سب کو پڑھنے میں مشکل ہو رہی ہو

کیوں کہ یہ کوئی مزیدار کہانی نھی،یا کوئی لطیفہ یا کوئی کسی کے ذاتی

معاملات جس میں سب دلچسپی لیں۔

یہ تو مظلوموں کی باتیں ہیں جن میں کسی کو دلچسپی کی ضرورت نہیں۔۔

میرا سوال یہی ہے کہ کیوں۔۔۔۔آخر کیوں وہ ۷۲ سالوں سے بیارومدادگر ہیں

کوئی اُن کے لیے آواز اُٹھانے والا نہیں؟؟

بس یہی ہے میرا سوال …

خصوصاً ہمارے وزیرِ اعظم جناب عمران خان صاحب سے
اور تمام سابقہ وزرائے اعظم سے

کہ آخر کیوں وہ اب تک بےگناہ شہید کیے جا رہے ہیں۔۔۔۔؟؟
آخر کیوں۔۔

کیوں اُن کیلئے آواز نہیں اٹھائی جا رہی؟؟

آسٹریلیا کو ہی دیکھ لیں ۔۔۔

24 افراد کا دکھ ہے سبکو۔۔۔

مگر اُس ملک کا جہاں ہر روز 24 سے زائد افراد شہید کیے جا رہے..

اور 72 سالوں سے پتا نہیں کتنے لاکھوں،کروڑوں افراد شہید ہو چکے کوئی

حساب نہیں کسی کو بھی۔۔۔۔

کیوں نہیں اُن کے لیے دکھ ہو رہا۔۔؟؟؟؟

کیوں؟؟؟۔۔؟

اُمید ہے جو بھی یہ سوال پڑھے وہ اس بات کا ضرور جواب دیں گے

اگر میرے الفاظوں سے کسی کو دکھ پہنچا ہو تو معذرت…
۔۔۔۔
مگر پھر بھی میں یہی کہوں گی کہ:

       *بات تو سچ ہے ،مگر ہے رسوائی کی*

جواب کی طالب:

    *ربیعہ ناصر*

                                        ‘مجھے بھی کچھ کہنا ہے’

RabbiBlogs.com

مجھے بھی کچھ کہنا ہے. بلکہ ہر کسی کو کچھ نہ کچھ کہنا ہے۔ شاہد سب کو وہی کہنا ہو جو میں کہنا چاہتی ہوں۔ مگر شاید کچھ لوگوں نے وہ کہہ دیا ہو۔ جو میں نہیں کہہ رہی۔ کیونکہ مجھے میرے دل کا حال کہنے کےلئے الفاظ نہیں مل رہے۔ قلم لڑ کھڑا رہا ہے۔ ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ اور دل میں ایک عجیب سا خوف ہے ، ڈر ہے۔ شاید میری بات سے اندازہ ہو کے مجھے کیا کہنا ہے۔ کیونکہ یہ باتیں ایسی باتیں ہیں جو ہر کسی کے دل میں ہیں۔ ایک علیحدہ لحاظ سے۔ مگر میں یہ کہنا چاہتی ہوں کے کاش! میرے الفاظ بتانے سے پہلے آپ تک پہنچ جائیں۔

ـ۔ اے لوگوں لوگوں سن لو مجھے کیا کہنا ہے
شاید تمہیں بھی وہی کہنا ہے،جو مجھے کہنا ہے
کاش میں اپنے جذبات لکھ پاتی۔ مگر جب ہاتھ ساتھ نہ دیں تو جذبات کیسے…

View original post 623 more words

وہ دسمبر کے آخری دن اور سال نو کا انتظار اک نئی اُمید کے ساتھ

RabbiBlogs.com

وہ دسمبر کے آخری دن اور سال نو کا انتظار اک نئی اُمید کے ساتھ
اور پھر سے سال نو کی آمد ہے۔۔
ہر کوئی پُرجوش ہے۔۔
سب نے کافی ترقیاں حاصل کیں،کافی خوشیاں حاصل کیں۔۔۔
اور ساتھ ہی کچھ غلطیاں بھی کیں۔۔۔
اور اب نئے سال کے اِنتظار میں بیٹھے۔۔۔!!
اُن غلطیوں کو سہی کرنے کی کوشش میں بیٹھے،
مزید ترقیاں حاصل کرنے کی جستجو میں بیٹھے،۔۔۔
اِنتظار کر رہے سب سال نو کا،جسکو آنے میں بس کچھ ہی دن لگیں گے
شاہد ۲/۳ دن۔۔
دراصل آنے والا سال بھی اسی اِنتظار میں ہے ، کہ وہ کب آئیگا
بس جلدی سے آجائے ، لوگوں کی خواہشات کو بر لائے
گویا ہر کوئی خوش ہے،،،،،
،،،،،،۔۔۔۔۔۔
مگر
کُچھ لوگ اُداس بھی ہیں
اور وہ اُداسی میں بھی خوشی تلاش کرنے کی کوشش میں کہ شاہد یہ آنے والا سال،
جسکا سب بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں، شاہد…

View original post 355 more words

وہ دسمبر کے آخری دن اور سال نو کا انتظار اک نئی اُمید کے ساتھ

وہ دسمبر کے آخری دن اور سال نو کا انتظار اک نئی اُمید کے ساتھ
اور پھر سے سال نو کی آمد ہے۔۔
ہر کوئی پُرجوش ہے۔۔
سب نے کافی ترقیاں حاصل کیں،کافی خوشیاں حاصل کیں۔۔۔
اور ساتھ ہی کچھ غلطیاں بھی کیں۔۔۔
اور اب نئے سال کے اِنتظار میں بیٹھے۔۔۔!!
اُن غلطیوں کو سہی کرنے کی کوشش میں بیٹھے،
مزید ترقیاں حاصل کرنے کی جستجو میں بیٹھے،۔۔۔
اِنتظار کر رہے سب سال نو کا،جسکو آنے میں بس کچھ ہی دن لگیں گے
شاہد ۲/۳ دن۔۔
دراصل آنے والا سال بھی اسی اِنتظار میں ہے ، کہ وہ کب آئیگا
بس جلدی سے آجائے ، لوگوں کی خواہشات کو بر لائے
گویا ہر کوئی خوش ہے،،،،،
،،،،،،۔۔۔۔۔۔
مگر
کُچھ لوگ اُداس بھی ہیں
اور وہ اُداسی میں بھی خوشی تلاش کرنے کی کوشش میں کہ شاہد یہ آنے والا سال،
جسکا سب بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں، شاہد ہمارے لیئے بھی اک اُمید کی کرن ہو
ہمارے لیے بھی اچھا ثابت ہو
اور بہت سوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم قیامت کے قریب پہنچ ہی گئے ہیں۔۔
مگر ان سب کے دلوں میں ،ہمارے دلوں میں ایک غم ہے،جو کہ ۷۲ سالوں سے موجود ہے ۔۔۔۔اک تیر جو کے ۷۲ سال پہلے ہمارے دلوں میں لگا تھا۔۔اور بہت گہرا زخم کرگیا جو کے ابھی تک بھی موجود ہے
ہم سب غریب،امیر،جوان، بوڑھے اسی جُستجو کے ساتھ کے یہ غم مٹ جائے،زخم بھر جائے ۔۔۔۔!!!!!
سال نو کا انتظار کر رہے ہیں۔۔
کاش، کاش کہ یہ زخم سال نو میں بھر جائے
کاش ہمیں ہمارے وہ لوگ مل جائیں جو ۷۲ سال سے ہم سے جدا ہیں۔۔
کاش اُن کی بھی دعائیں قبول ہو جائیں جو ۷۲ سال سے مدد کے لیے پُکار رہے ہیں۔۔
پورا سال گزر جاتا ہے اور جب دسمبر آتا ہے
خوشیوں کے رنگ بکھیرتا ہے
اور بکھیرتا چلا جاتا ہے۔۔!
ہر کسی کو ایک نئی اُمید کی کرن نظر آتی ہے
کہ شاہد دسمبر کے بعد آنے والے مہینے میں انکی دعائیں رنگ لے آئیں جو ۷۲ سال سے قبول نہیں ہو پا رہیں۔۔
وہ لوگ جو آج تک آزاد نہیں ہوئے۔۔
وہ لوگ جو ۷۲ سالوں بلاوجہ مارے جائیں رہے ہیں۔۔
وہ بھی اسی اِنتظار میں سال نو کا انتظار کر رہے ہوتے کہ شاہد ہمیں بھی آزادی مل جائے
مگر ہر سال یونہی اِنتظار میں گزر جاتا
یونہی ہر سال اُمید کی کرنیں جاگتیں، اور پھر کُچھ ہی وقت کے بعد دوبارہ سے سو جاتی ہیں۔۔۔!
کاش کہ ہم بھی کُچھ کر پاتے
سوائے باتوں کے
کاش ہم بھی مدد کر پاتے
کاش ہم بھی اُن لوگوں کو اپنے ساتھ رہتا ہوا دیکھ پاتے
کاش ،کاش،،،۔۔۔۔۔کاش
مگر ہم پوری اُمید،جُستجو اور اس توقع کے ساتھ سال نو کا انتظار کر رہے ہیں کہ شاہد ہم وہ اُمید کی کرنیں جو ہر سال کی آمد کے ساتھ جاگتیں ہیں اور کچھ وقت کےبعد سو جاتی ہیں اُنہیں جگائے رکھیں اور اُن اُمیدوں کو بر لائیں جو ۷۲ سال سے پوری نہیں ہو سکیں
اور انشاء اللّہ وہ امیدیں ضرور پوری ہوں گی۔۔۔۔
از قلم:
ربیعہ ناصر

                                        ‘مجھے بھی کچھ کہنا ہے’

ـ۔ اے لوگوں لوگوں سن لو مجھے کیا کہنا ہے شاید تمہیں بھی وہی کہنا ہے،جو مجھے کہنا ہے کاش میں اپنے جذبات لکھ پاتی۔ مگر جب ہاتھ ساتھ نہ دیں تو جذبات کیسے بیان کیے جائیں۔
اے ہا تھ ذرا کھل کے جذبات لکھ جب تو لر کھڑا گیا،تو قلم بھی ساتھ چھوڑ جائے گی میں اپنے دل کا حال نہیں بیان کر پارہی۔ کیونکہ جب بھی میری قلم اُٹھتی ہے اور میں لکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میرا دل خون کے آ نسو رونا شروع کر دیتا ہے دماغ میں کچھ عجیب سے خیالات آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کہ گویا میرا دل ودماغ کسی اور کے قبضے میں چلے گئے ہوں اور وہ اسے اپنے طریقے سے چلا رہا ہو۔ جی! ہاں یہ دل ودماغ ہر کسی کے پاس ہے۔ اور شاید اُن کا بھی یہی حال ہوتا ہے جو میرا ہوتا ہے۔
۔۔ اے دل ابھی کُھل کر اپنے جذبات بتادے کے جب تو روتا ہے تو ہر طرف خون ہی خون نظرآتا ہے شاہد آپکو میری باتوں سے اندازہ ہوگیا ہو کہ میں کس کی بات کر رہی ہوں ۔۔۔جی ہاں! میں کشمیر کی بات کر رہی ہوں۔ اُس کشمیر کی جس نے میرے دل ودماغ پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ ہاں اُس جنت نظیر کی جو اُن کافروں کے پاس ہے جو دوزخ کے حق دار ہیں۔ اُس کشمیر کی جو میرا دل وجان ہے۔ ہاں وہی کشمیر جومیرے دل ودماغ پے چھایا ہوا ہے۔ مجھے کچھ کہنے نہیں دیتا۔ لکھنے نہیں دیتا۔ کیونکہ کہ جب میں لکھتی ہوں تو آنکھوں پہ اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اور میں اُس اندھیرے میں بھی یہ دیکھ پاتی ہوں کہ میرا کشمیر جل رہا ہے۔اُس اندھیرے میں آگ نظر آتی ہے اور تپش بھی بہت ہوتی ہے۔ کیونکہ کہ اُس میں ایسی چیز جل رہی ہوتی ہے جس سے میرا بہت گہرا رشتہ ہے۔
۔۔ اے میرے کشمیر،اے جنت نظیر کاش میں اسی دنیا میں دیکھ پاتی جنت کی تصویر دراصل اب میرا قلم بہانے بھی بنا نے لگ پڑا ہے۔ کیونکہ کہ اُس کے دل کا بھی وہی حال ہے جو میرا اور شاید آپ سب کےدل کا ہے۔ مجھے بہت کچھ اور بھی کہنا ہے مگر کیا کروں میرے قلم،میرے ہاتھوں اور میرے دماغ میں اتنی طاقت نہیں کہ مجھے اور بھی کچھ کہنے دیں۔ کیونکہ اُن کے کانوں میں اُن ماؤں ، بہنوں،اُن بیٹیوں کی آ وازیں ہیں کہ جنکی عزتیں سرعام نیلام ہو رہی ہیں سرعام اُنہیں قتل کیا جا رہا ہے۔ مگر پھر بھی صبر سے وہ یہی کہ رہی ہیں۔ مجھ کو بھی کچھ کہنا ہے۔ پاکستان زندہ بادکے نعرے لگا رہی ہیں۔ اے ظالم چلے جاؤ میری جنت سے۔ اُن بیٹوں، اُن باپوں، اُن بھائیوں اور اُن معصوم جانوں کی آوازیں جو قتل ہو رہے ہیں اور یہی کہ رہے ہیں۔ اے لوگوں مجھے بھی کچھ کہنا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔مجھ کو بھی کچھ کہنا ہے۔ میرے ہاتھ بس اتنا ہی ساتھ دے سکے۔ میرا دماغ بس اتنا ہی آذارہ سکا، میرا دل بس اتنے ہی جذبات بیان کر سکا۔ کیونکہ وہ پھر سے اُسی قید میں چلے گئے ہیں۔ جہاں میری جنت جل رہی ہے۔

۔۔۔ “` اے دل کاش تو اور بھی بیان کر پاتا اپنے جذبات
تاکہ میں بھی دنیا کو بتا پاتی، مجھ کو بھی کچھ کہناہے

مجھے بھی کچھ کہنا ہے. بلکہ ہر کسی کو کچھ نہ کچھ کہنا ہے۔ شاہد سب کو وہی کہنا ہو جو میں کہنا چاہتی ہوں۔ مگر شاید کچھ لوگوں نے وہ کہہ دیا ہو۔ جو میں نہیں کہہ رہی۔ کیونکہ مجھے میرے دل کا حال کہنے کےلئے الفاظ نہیں مل رہے۔ قلم لڑ کھڑا رہا ہے۔ ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ اور دل میں ایک عجیب سا خوف ہے ، ڈر ہے۔ شاید میری بات سے اندازہ ہو کے مجھے کیا کہنا ہے۔ کیونکہ یہ باتیں ایسی باتیں ہیں جو ہر کسی کے دل میں ہیں۔ ایک علیحدہ لحاظ سے۔ مگر میں یہ کہنا چاہتی ہوں کے کاش! میرے الفاظ بتانے سے پہلے آپ تک پہنچ جائیں۔

ـ۔ اے دماغ، کاش تو بھی اور سوچ پاتا،طاقت دیتا
تا کہ میں بتا پا تی کہ، مجھ کو بھی کُچھ کہنا ہے

۔۔ اے قلم کاش تو تھوڑا اور چل پا تا
تا کہ میں بھی لکھ پاتی،مجھ کو بھی کُچھ کہنا ہے
۔۔ کہ اک دن جائیں گے وہاں ہم
جہاں پے فرشتوں کا بھی بسیرا ہے

  بھلادیکھیں تو سہی کون سے جنت ہے وہ
  جہاں  سُنا ہے کافروں کا بھی ڈیرہ ہے 

 اور کرتے ہیں ہم تجھ سے یہ عہد اے ہماری جنت
     ختم کر کے ہی رہیں گے انکو ہم```
    ```جنہوں نے انسانیت کا قتل عام کر کے چھوڑا ہے```
 ♥ *پاکستان زندہ باد،جنت نظیر پائندہ باد*

از قلم :
ربیعہ ناصر

What Is a Blog?🤔

RabbiBlogs.com

How Do Blogs Work?

Carrie Grosvenor

ByCarrie GrosvenorReviewed by Social Media Consultant and Web Designer,Mychelle Blake

Woman using laptop inside tent in the mountain

As blogs become more relevant and popular online, you may be asking yourself, “How do blogs work?” Blogs are basically simplified websites that just about anyone can create and publish.

What Is a Blog?

The term “blog” is short for “weblog,” which refers to an online journal. Blogs began as personal mini sites that people used to record their opinions, stories, and other writings as well as photos and videos.

As the web has grown and changed, blogs have gained more recognition and merit. Nowadays, blogs can be for businesses, news, networking and other professional means. There are still plenty of personal blogs out there, but overall blogs are being taken much more seriously.

How Do Blogs Work?

Blogs consist of a series of posts made by one or more bloggers. The posts…

View original post 302 more words

What Is a Blog?🤔

How Do Blogs Work?

Carrie Grosvenor

By Carrie GrosvenorReviewed by Social Media Consultant and Web Designer, Mychelle Blake

Woman using laptop inside tent in the mountain

As blogs become more relevant and popular online, you may be asking yourself, “How do blogs work?” Blogs are basically simplified websites that just about anyone can create and publish.

What Is a Blog?

The term “blog” is short for “weblog,” which refers to an online journal. Blogs began as personal mini sites that people used to record their opinions, stories, and other writings as well as photos and videos.

As the web has grown and changed, blogs have gained more recognition and merit. Nowadays, blogs can be for businesses , news, networking and other professional means. There are still plenty of personal blogs out there, but overall blogs are being taken much more seriously.

How Do Blogs Work?

Blogs consist of a series of posts made by one or more bloggers. The posts appear in reverse chronological order, with the most recent post at the top of the main page. All posts are archived, and are usually sorted into categories. Readers can browse these categories or page back through the blog to read older entries.

Blogs can focus on a single topic or contain a wide range of themes and ideas. Some of the most common blogs focus on things like:

  • Small businesses and their products
  • Various aspects of parenting
  • Food and cooking
  • Celebrity sightings and gossip
  • Professional sports and specific teams
  • Product reviews
  • Career advice

Why People Blog

In answering the question “how do blogs work?” it’s important to consider the reason why so many people are blogging  now. The appeal of blogging is that anyone can do it. Anyone who is interested in sharing their words with the world can do so with a few clicks of a mouse and a keyboard. Another common reason people blog is to establish themselves as subject matter experts in their chosen field which can lead to more sales or customers. Blogs can also be monetized to earn extra or even full-time income. Finally guest blogs are on authoritative and sites with high traffic are often employed to bolster the SEO and links for other websites.

Sending a Message

Whether people have a message that they want to convey, a professional service that they’re looking to sell, or a simple desire to have their words published for others to read, blogs can accomplish these goals simply and easily. Hundreds of new blogs are started each day, and while many of them are quickly abandoned, others persevere.

Promoting Expertise

It’s true that blogs don’t yet carry the perceived authority of traditional news or literature services, but they are becoming more respected as more people embrace their simplicity and effectiveness.

Suicide and suicidal behaviour

Many people try to get help before attempting suicide.In fact, studies indicate that more than 50 percent of suicide victims had sought medical help in the six months prior to their deaths.

Inspired Trait

Suicide and suicidal behaviour
Suicide is now worldwide emerging health issue. Suicide in intentional taking of one’s own life. 200,000 people in USA attempt suicide every year out of which 26,000 people loses their lives. While actual no. of suicides may be higher since official records often list a suicide as another form of death. In Pakistan 15 – 35 people commit suicide every day. Means one person every hour commit suicide. According to WHO survey in 2012, the suicide rate was 7.5 per 100,000 people In Pakistan. Which means 13,000 people commit suicide every year. This no. is half of American suicide deaths. student suicides in Pakistan is also a wake up call for parents and educational administrations.
Types of suicidal behavior
There is 3 types of suicidal behavior.

  1. Suicide threat
  2. Suicide attempt
  3. Suicide gesture
  4. Dead by suicide

Suicide threat
Suicide threat is verbal admiration of one’s own life…

View original post 422 more words